ابنا: سيکڑوں کي تعداد ميں امريکي شہريوں نے کل رات ايک بار پھر مختلف شہروں ميں مظاہرے کئے ہيں-مظاہرين نے فيصلے کے خلاف نعرے لگائے اور امريکہ عدليہ پر نسل پرستي کا الزام لگايا-
عدالت نے اپنے فيصلے ميں کہا ہے کہ جارج زيمر مين نے ٹرائيون مارٹن پر بلاوجہ فائرنگ نہيں کي تھي لہذا اسے بري کيا جاتا ہے-امريکہ کے ديگر شہروں ميں بھي عدالت کے اس فيصلے کے خلاف زبردست مظاہرے کئے گئے ہيں-
جسٹس فار ٹرائيون نامي الائنس نے عدالت کے فيصلے کے خلاف ملک گير احتجاج کي اپيل کي ہے-نيويارک، وسکانسن ، لاس اينجلس، اور ديگر شہروں ميں بھي لوگوں نے عدالت کے فيصلے پر برھمي کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرے کئے ہيں-مظاہرين نے اپنے ہاتھوں ميں قتل ہونے والے نوجوان کي تصاوير اٹھا رکھي تھيں اور وہ انصاف کي فراہمي کا مطالبہ کر رہے تھے- کئي مقامات پوليس نے مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے تشدد سے بھي کام ليا ہے-
.......
/169